Giving power to the words.
راہ اقبال پر چلنے کی تمنا کر کے دل بھی رنجیدہ ہےالٰلّه سے شکوہ کر کےاصفیا سمجھیں گے ہر بات کہ صوفی میں ہوںکیا زمانے کو ملے گا مجھے رسوا کر کے
انجم لکھنویؔ
وہ کہتا ہے کہ دکھ کیا ہے ہم نے کہا سن نہیں پاو گے!
No comments:
Post a Comment